کلامِ فانیردیف ے

اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے

۱

اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئے

۲

یا ترے محتاج ہیں اے خون دلیا انہیں آنکھوں سے دریا بہہ گئے

۳

موت ان کا منہ ہی تکتی رہ گئیجو تری فرقت کے صدمے سہ گئے

۴

تو سلامت ہے تو ہم اے درد دلمر ہی جائیں گے جو جیتے رہ گئے

۵

پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیاپھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے

۶

اٹھ گئے دنیا سے فانیؔ اہل ذوقایک ہم مرنے کو زندہ رہ گئے

۷۸ / ۹۸