کلامِ فانیردیف ے

بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتے

۱

بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتےکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتے

۲

تقدیر محبت تھی مر مر کے جیے جاناجینا ہی مقدر تھا ہم مر کے بھی کیا کرتے

۳

مہلت نہ ملی غم سے اتنی بھی کہ حال اپناہم آپ کہا کرتے اور آپ سنا کرتے

۴

نادم اسے چاہا تھا جان اس پہ فدا کر کےتدبیر تو اچھی تھی تقدیر کو کیا کرتے

۵

احباب سے کیا کہئے اتنا نہ ہوا فانیؔجب ذکر مرا آتا مرنے کی دعا کرتے

۷۹ / ۹۸