کلامِ فانیردیف ے

اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہے

۱

اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہےتو اعتبار ہستی بے اعتبار ہے

۲

عہد ازل پہ زندگیوں کا مدار ہےعالم تمام غم کدۂ اعتبار ہے

۳

ذرات چشم شوق ہیں آمادۂ نگاہمحرومیوں کو اب بھی ترا انتظار ہے

۴

بیداد کا گلہ تو کروں اور جو وہ کہیںیہ کہیے امتحان وفا ناگوار ہے

۵

اک یہ وفا کہ ننگ غم دوست ہے ہنوزاک وہ ستم کہ حسن کا آئینہ دار ہے

۶

تمییز حسن و عشق نہ عرفان غم مگراک تیر بے پناہ کلیجے کے پار ہے

۷

مختار ہوں کہ معترف جبر دوست ہوںمجبور ہوں کہ یہ بھی کوئی اختیار ہے

۸

اب کس کو اعتبار کہ تو بے وفا نہیںاب کس کو انتظار مگر انتظار ہے

۹

باقی نہیں کسی کو نشاط جنوں کا ہوشکس جوش پر شباب غم روزگار ہے

۱۰

آداب عاشقی کا تقاضا ہے اور باتتو ورنہ دل کی آڑ میں خود بے قرار ہے

۱۱

ہوگی کسی کو فرصت نظارۂ جمالفانیؔ خراب حسن تماشائے یار ہے

۸۰ / ۹۸