کلامِ فانیردیف ے

ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئے

۱

ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئےمری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئے

۲

الٰہی کیوں نہیں ہوتی کوئی بلا نازلاثر ہے دیر سے دست دعا اٹھائے ہوئے

۳

تری لگائی ہوئی آگ حشر تک نہ بجھیہوئے نہ مر کے بھی ٹھنڈے ترے جلائے ہوئے

۴

بلائے جاں ہے مگر پھر بھی آرزو ہے تریہم اس کو اپنے کلیجے سے ہیں لگائے ہوئے

۵

سحر ہوئی کہ وہ یادش بخیر آتا ہےچراغ ہیں مری تربت کے جھلملائے ہوئے

۶

تمہیں کہو کہ تمہیں اپنا سمجھ کے کیا پایامگر یہی کہ جو اپنے تھے سب پرائے ہوئے

۷

کسی کا ہائے وہ مقتل میں اس طرح آنانظر بچائے ہوئے آستیں چڑھائے ہوئے

۸

اجل کو مژدۂ فرصت کہ آج فانیؔ زارامید وصل سے بیٹھا ہے لو لگائے ہوئے

۸۱ / ۹۸