کلامِ فانیردیف ے

اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہے

۱

اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہےچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہے

۲

ہجر میں بھی مجھے امداد اجل ہے درکارمیری تربت پہ نہ آ تجھ سے حجاب آتا ہے

۳

دید آخر ہے الٹ دیجیے چہرے سے نقابآج مشتاق کے چہرے پہ نقاب آتا ہے

۴

کس طرف جوش کرم تیری نگاہیں اٹھیںکون محشر میں سزاوار عتاب آتا ہے

۵

موت کی نیند بھی اب چین سے سونا معلومکہ جنازے پہ وہ غارت گر خواب آتا ہے

۶

دل کو اس طرح ٹھہر جانے کی عادت تو نہ تھیکیوں اجل کیا مرے نامے کا جواب آتا ہے

۷

جلوۂ رنگ ہے نیرنگ تقاضائے نگاہکوئی مجبور تماشائے سراب آتا ہے

۸

ہو گیا خون ترے ہجر میں دل کا شایداب تصور بھی ترا نقش بر آب آتا ہے

۹

ملتی جلتی ہے مری عمر دو روزہ فانیؔجی بھر آتا ہے اگر ذکر حباب آتا ہے

۸۲ / ۹۸