کلامِ فانیردیف ے

اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے

۱

اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہے

۲

آتی ہے صبا سوئے لحد ان کی گلی سےشاید مری مٹی ابھی برباد نہیں ہے

۳

اللہ بچائے اثر ضبط سے ان کوبیداد تو ہے شکوۂ بیداد نہیں ہے

۴

اپنی ہی بدولت ہے نشیمن کی خرابیمنت کش بے دردئ صیاد نہیں ہے

۵

آمادۂ فریاد رسی ہے وہ ستم گرفریاد کہ اب طاقت فریاد نہیں ہے

۶

دنیا میں دیار دل فانیؔ کے سوا ہائےکوئی بھی وہ بستی ہے جو آباد نہیں ہے

۸۳ / ۹۸