کلامِ فانیردیف ے
آہ سے یا آہ کی تاثیر سے
۱
آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سے
۲
اب سے غم سہنے کی عادت ہی سہیصلح کر لیں لاؤ چرخ پیر سے
۳
جبر کو کیونکر نہ سمجھوں اختیارتم نے باندھا ہے مجھے زنجیر سے
۴
کام اب اس تدبیر پر ہے منحصرواسطہ جس کو نہ ہو تقدیر سے
۵
اس نگاہ ناز کا اللہ رے فیضنسبتیں ہیں زخم دل کو تیر سے
۶
ہوشیار او شوخ بے پروا خرامبچ کے میری خاک دامن گیر سے
۷
عشق فانیؔ اس پہ اپنی یہ بساطکھیلتی ہیں بجلیاں تصویر سے
۸۴ / ۹۸