کلامِ فانیردیف ے

وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہے

۱

وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہےبہت دنوں مرے ماتم میں سوگوار رہے

۲

خدا کی مار جو اب دل پہ اختیار رہےبہت قرار کے پردے میں بے قرار رہے

۳

کسی نے وعدۂ صبر آزما کیا تو ہےخدا کرے کہ مجھے تاب انتظار رہے

۴

فنا کے بعد یہ مجبوریاں ارے توبہکوئی مزار میں کوئی سر مزار رہے

۵

سکون موت مری لاش کو نصیب نہیںرہے مگر کوئی اتنا نہ بے قرار رہے

۶

میں کب سے موت کے اس آسرے پہ جیتا ہوںکہ زندگی مری مرنے کی یادگار رہے

۷

جو دل بچا نہ سکے جان کیا بچا لیں گےنہ اختیار رہا ہے نہ اختیار رہے

۸

میں غم نصیب وہ مجبور شوق ہوں فانیؔجو نامراد جیے اور امیدوار رہے

۸۵ / ۹۸