کلامِ فانیردیف ے
قصۂ زیست مختصر کرتے
۱
قصۂ زیست مختصر کرتےکچھ تو اپنی سی چارہ گر کرتے
۲
موت کی نیند سو گئے بیمارروز کس شام کو سحر کرتے
۳
سچ ہے ہر نالہ کیوں رسا ہوتامیرے نالے تھے کیوں اثر کرتے
۴
خود وفا کیا وفا کا بدلہ کیالطف احسان تھا اگر کرتے
۵
کر لیا تیرے نام پر سجدہاب کہاں قصد سنگ در کرتے
۶
آس ہوتی تو اس سہارے پرصبر ممکن نہ تھا مگر کرتے
۷
کاش آئینہ ہاتھ سے رکھ کرتم مرے حال پر نظر کرتے
۸
طول روداد غم معاذ اللہعمر گزری ہے مختصر کرتے
۹
غم نے مہلت نہ دی کہ ہم فانیؔاور کچھ دن ابھی بسر کرتے
۸۶ / ۹۸