کلامِ فانیردیف ے

قطرہ دریائے آشنائی ہے

۱

قطرہ دریائے آشنائی ہےکیا تری شان کبریائی ہے

۲

تیری مرضی جو دیکھ پائی ہےخلش درد کی بن آئی ہے

۳

وہم کو بھی ترا نشاں نہ ملانارسائی سی نارسائی ہے

۴

کون دل ہے جو دردمند نہیںکیا ترے درد کی خدائی ہے

۵

جلوۂ یار کا بھکاری ہوںشش جہت کاسۂ گدائی ہے

۶

موت آتی ہے تم نہ آؤگےتم نہ آئے تو موت آئی ہے

۷

بچھ گئے راہ یار میں کانٹےکس کو عذر برہنہ پائی ہے

۸

ترک امید بس کی بات نہیںورنہ امید کب بر آئی ہے

۹

مژدۂ جنت وصال ہے موتزندگی محشر جدائی ہے

۱۰

آرزو پھر ہے در پئے تدبیرسعی ناکام کی دہائی ہے

۱۱

موت ہی ساتھ دے تو دے فانیؔعمر کو عذر بے وفائی ہے

۸۷ / ۹۸