کلامِ فانیردیف ے

کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائے

۱

کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائےگھر وہ صحرا کہ بہار آئے تو زنداں ہو جائے

۲

برق دم لینے کو ٹھہرے تو رگ جاں ہو جائےفتنۂ حشر مجسم ہو تو انساں ہو جائے

۳

جوہر آئینہ دل ہے وہ تصویر ہے تودل وہ آئینہ کہ تو دیکھ کے حیراں ہو جائے

۴

غم وہ راحت جسے قسمت کے دھنی پاتے ہیںدم وہ مشکل ہے کہ موت آئے تو آساں ہو جائے

۵

عشق وہ کفر کہ ایمان ہے دل والوں کاعقل مجبور وہ کافر جو مسلماں ہو جائے

۶

ذرہ وہ راز بیاباں ہے جو افشا نہ ہوادشت وحشت ہے وہ ذرہ جو بیاباں ہو جائے

۷

غم محسوس وہ باطل جسے کہتے ہیں مجازدل کی ہستی وہ حقیقت ہے جو عریاں ہو جائے

۸

خلد مے خانہ کو کہتے ہیں بقول واعظکعبہ بت خانے کو کہتے ہیں جو ویراں ہو جائے

۹

سجدہ کہتے ہیں در یار پہ مر جانے کوقبلہ وہ سر ہے جو خاک رہ جاناں ہو جائے

۱۰

موت وہ دن بھی دکھائے مجھے جس دن فانیؔزندگی اپنی جفاؤں پہ پشیماں ہو جائے

۸۸ / ۹۸