کلامِ فانیردیف ے
کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتے
۱
کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتےہم تجھ سے چھپا کر بھی ترا نام نہ لیتے
۲
نظریں نہ بچانا تھیں نظر مجھ سے ملا کرپیغام نہ دینا تھا تو پیغام نہ لیتے
۳
کیا عمر میں اک آہ بھی بخشی نہیں جاتیاک سانس بھی کیا آپ کے ناکام نہ لیتے
۴
اب مے میں نہ وہ کیف نہ اب جام میں وہ باتاے کاش ترے ہاتھ سے ہم جام نہ لیتے
۵
قابو ہی غم عشق پہ چلتا نہیں ورنہاحسان غم گردش ایام نہ لیتے
۶
ہم ہیں وہ بلا دوست کہ گلشن کا تو کیا ذکرجنت بھی بجائے قفس و دام نہ لیتے
۷
خاموش بھی رہتے تو شکایت ہی ٹھہرتیدل دے کے کہاں تک کوئی الزام نہ لیتے
۸
اللہ رے مرے دل کی نزاکت کا تقاضاتاثیر محبت سے بھی ہم کام نہ لیتے
۹
تیری ہی رضا اور تھی ورنہ ترے بسملتلوار کے سائے میں بھی آرام نہ لیتے
۱۰
اک جبر ہے یہ زندگی عشق کہ فانیؔہم مفت بھی یہ عیش غم انجام نہ لیتے
۸۹ / ۹۸