کلامِ فانیردیف ے
کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلے
۱
کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلےہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلے
۲
کی سپرد در بت خانہ اجل نے مری خاککس کو سونپا مجھے ظالم نے خدا کے بدلے
۳
لطف بیداد حیا غصہ تغافل شوخیرنگ کیا کیا نہ تلون نے ادا کے بدلے
۴
ہائے میں کشتۂ انداز ہوں یا رب کس کاحور آئی مجھے لینے کو قضا کے بدلے
۵
تیر سے تیغ سے خنجر سے سناں سے ماراکئی پہلو مرے قاتل نے قضا کے بدلے
۶
کفن اے گرد لحد دیکھ نہ میلا ہو جائےآج ہی ہم نے یہ کپڑے ہیں نہا کے بدلے
۷
عشق اللہ بچائے وہ مرض ہے فانیؔزہر بیمار کو دیتے ہیں دوا کے بدلے
۹۰ / ۹۸