کلامِ فانیردیف ی

تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئی

۱

تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئیمطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئی

۲

آتے ہی تیرے وعدۂ فردا کا اعتبارگھبرا کے مر نہ جائے تو پھر کیا کرے کوئی

۳

وہ جلوہ بے حجاب سہی ضد کا کیا علاججب دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

۴

کہتے ہیں حسن ہی کی امانت ہے درد عشقاب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

۵

خالی ہے بزم ذوق طلب اہل ہوش سےاتنا نہیں کہ تیری تمنا کرے کوئی

۶

وہ درد دے کہ موت بھی جس کی دوا نہ ہواس دل کو موت دے جسے اچھا کرے کوئی

۷

فانیؔ دعائے مرگ کی تکرار کیا ضرورغافل نہیں کہ ان سے تقاضا کرے کوئی

۶۱ / ۹۸