کلامِ فانیردیف ی

شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئی

۱

شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئیجو عمر صرف تماشائے حسن یار ہوئی

۲

حساب حسرت جرم نظارہ دل سے پوچھنظر تو ایک جھلک کی گناہگار ہوئی

۳

بساط عجز میں اک آہ تھی متاع حیاتسو وہ بھی صرف ستم ہائے روزگار ہوئی

۴

بقدر ہستی دل ہے خمار غم بدنامخزاں خراب بہ اندازۂ بہار ہوئی

۵

نہیں کہ آہ میں تاثیر ہی نہیں لیکنیہ دل فگار کبھی آسماں فگار ہوئی

۶

کرم ہے راز امید کرم کی ہستی کاامید تیرے کرم کی امیدوار ہوئی

۷

بلا سے ہجر میں جینے کی انتہا تو ہےوہ ایک بار ہوئی یا ہزار بار ہوئی

۸

ازل میں خلق ہوئی تھی جو بجلیوں کی روحتری نگاہ مری جان بے قرار ہوئی

۹

مرے وجود کی حجت مرے عدم کی دلیلوہ اک نظر تھی جو شاید جگر کے پار ہوئی

۱۰

بہار نذر تغافل ہوئی خزاں ٹھہریخزاں شہید تبسم ہوئی بہار ہوئی

۱۱

امید مرگ پہ فانیؔ نثار کیا کیجےوہ زندگی کہ ہوئی بھی تو مستعار ہوئی

۶۲ / ۹۸