کلامِ فانیردیف ہ
دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ
دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھآئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ
اس دور میں یہ طرز جفا آزما کے دیکھدل کے بجائے دل کے سکوں کو مٹا کے دیکھ
تسلیم کی نظر سے کرشمے رضا کے دیکھبیگانگی دوست کو اپنا بنا کے دیکھ
اس شورش حیات کو حد سے بڑھا کے دیکھیہ فتنہ اور حشر سے پہلے اٹھا کے دیکھ
یوں دیکھتا ہے تیرگی آب و گل میں کیاشعلوں سے کھیل دل کو جلا اور جلا کے دیکھ
ہر زندگی کا نام نہ رکھ دل کی زندگیایمان زندگی پہ نہ لا آزما کے دیکھ
تیری تجلیوں سے کسی طرح کم نہیںدل کی تجلیوں کو کبھی دل میں آ کے دیکھ
اب کے ادائے خاص سے کر امتحان دلجو برق طور پر نہ گری ہو گرا کے دیکھ
ہاں اہل دل کے حال سے غفلت محال ہےاچھا یقیں نہیں تو مجھی کو بھلا کے دیکھ
دنیا کو دیکھنا تو میسر نہیں تجھےذرے کو دیکھنا ہے تو دنیا بنا کے دیکھ
فانیؔ سفینہ اب بھی نہ ڈوبے تو کیا کرےطوفان کو نہ دیکھ ستم نا خدا کے دیکھ
۶۰ / ۹۸