کلامِ فانیردیف ی
جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالی
۱
جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالی
۲
اب برق نشیمن کو ہر شاخ سے کیا مطلبجس شاخ کو تاکا تھا وہ شاخ جلا ڈالی
۳
اظہار محبت کی حسرت کو خدا سمجھےہم نے یہ کہانی بھی سو بار سنا ڈالی
۴
جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتےکیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ڈالی
۵
جینے میں نہ اب فانیؔ مرنے میں شمار اپناماتم کی بساط اس نے کیا کہہ کے اٹھا ڈالی
۶۳ / ۹۸