کلامِ فانیردیف ی
دیر میں یا حرم میں گزرے گی
۱
دیر میں یا حرم میں گزرے گیعمر تیرے ہی غم میں گزرے گی
۲
کچھ امید کرم میں گزری عمرکچھ امید کرم میں گزرے گی
۳
زندگی یاد دوست ہے یعنیزندگی ہے تو غم میں گزرے گی
۴
اب کرم کا یہ ماحصل ہے کہ عمریاد عہد ستم میں گزرے گی
۵
دل کو شوق نشاط وصل نہ چھیڑغم میں گزری ہے غم میں گزرے گی
۶
حسرت دم بدم میں گزری عمرعبرت دم بدم میں گزرے گی
۷
حشر کہتے ہیں جس کو اے فانیؔوہ گھڑی شرح غم میں گزرے گی
۶۴ / ۹۸