کلامِ فانیردیف ی
بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گی
۱
بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گی
۲
ایذا نہ رہے گی جو گوارا نہ رہے گیچھیڑا مجھے دنیا نے تو دنیا نہ رہے گی
۳
دل لے کے یہ کیا ضد ہے کہ اب جان بھی کیوں ہویہ بھی نہ رہے گی بہت اچھا نہ رہے گی
۴
یہ درد محبت غم دنیا تو نہیں ہےاب موت بھی جینے کا سہارا نہ رہے گی
۵
ایسا بھی کوئی دن مری قسمت میں ہے فانیؔجس دن مجھے مرنے کی تمنا نہ رہے گی
۶۵ / ۹۸