کلامِ فانیردیف ی

آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئی

۱

آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئیکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئی

۲

شام سے فکر صبح کیا شب ہجرمر رہیں گے اگر سحر نہ ہوئی

۳

کس سے دل کا سراغ پائیں گے ہمتو ہی اے آرزو اگر نہ ہوئی

۴

خلق سمجھی مجھی کو دیوانہچارہ فرمائے چارہ گر نہ ہوئی

۵

کچھ نظر کہہ گئی زباں نہ کھلیبات ان سے ہوئی مگر نہ ہوئی

۶

شکوہ کیا ان سے خون ناحق کازندگی تھی ہوئی بسر نہ ہوئی

۷

حشر کا دن بھی ڈھل گیا فانیؔدل کی روداد مختصر نہ ہوئی

۶۶ / ۹۸