کلامِ فانیردیف ی

قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کی

۱

قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کیکہ دل میں اب نہیں طاقت ستائے جانے کی

۲

ہماری موت نے کچھ مختصر کیا ورنہکچھ انتہا ہی نہ تھی عشق کے فسانے کی

۳

گری نہ برق کچھ اس خوف سے مرے ہوتےتڑپ کے آگ بجھا دوں نہ آشیانے کی

۴

تمہارا درد تو درماں بنا لیا ہم نےاب اور سوچیے تدبیر دل دکھانے کی

۵

زمانہ کفر محبت سے کر چکا تھا گریزتری نظر نے پلٹ دی ہوا زمانے کی

۶

پلٹ پلٹ کے قفس ہی کی سمت جاتا ہوںکسی نے راہ بتائی نہ آشیانے کی

۷

نجات دی غم دنیا سے درد دل نے مجھےیہ ایک راہ ملی غم سے چھوٹ جانے کی

۸

وہ صبح عید کا منظر ترے تصور میںوہ دل میں آ کے ادا تیرے مسکرانے کی

۹

بتا رہا ہے ہر انداز خاک فانیؔ کایہ خاک ہے اسی کافر کے آستانے کی

۶۷ / ۹۸