کلامِ فانیردیف ی
مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہی
مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہییعنی وہ اضطراب کی صورت نہیں رہی
ہر لمحۂ حیات رہا وقف کار شوقمرنے کی عمر بھر مجھے فرصت نہیں رہی
ایک نالۂ خموش مسلسل ہے اور ہمیادش بخیر ضبط کی طاقت نہیں رہی
وہ عہد دل فریبئ تاثیر اب کہاںمدت سے آہ آہ کی حسرت نہیں رہی
دل اور ہوائے سلسلۂ جنبانئ نشاطکیوں پاس وضع غم تجھے غیرت نہیں رہی
ہر بے گناہ سے وعدۂ بخشش ہے روز حشرگویا گناہ کی بھی ضرورت نہیں رہی
اے عرض شوق مژدہ کہ دل چاک ہو گیاتکلیف پردہ دارئ حسرت نہیں رہی
پتھرا گئی تھی آنکھ مگر بند تو نہ تھیاب یہ بھی انتظار کی صورت نہیں رہی
عبرت نے بیکسی کا نشاں بھی مٹا دیااڑتی تھی جس پہ خاک وہ تربت نہیں رہی
محشر میں بھی وہ عہد وفا سے مکر گئےجس کی خوشی تھی اب وہ قیامت نہیں رہی
کس منہ سے غم کے ضبط کا دعویٰ کرے کوئیطاقت بقدر حسرت راحت نہیں رہی
فانیؔ امید مرگ نے بھی دے دیا جوابجینے کی ہجر میں کوئی صورت نہیں رہی
۶۸ / ۹۸