کلامِ فانیردیف ی

ہر گھڑی انقلاب میں گزری

۱

ہر گھڑی انقلاب میں گزریزندگی کس عذاب میں گزری

۲

شوق تھا مانع تجلی دوستان کی شوخی حجاب میں گزری

۳

کرم بے حساب چاہا تھاستم بے حساب میں گزری

۴

ورنہ دشوار تھا سکون حیاتخیر سے اضطراب میں گزری

۵

راز ہستی کی جستجو میں رہےرات تعبیر خواب میں گزری

۶

کچھ کٹی ہمت سوال میں عمرکچھ امید جواب میں گزری

۷

کس خرابی سے زندگی فانیؔاس جہان خراب میں گزری

۶۹ / ۹۸