کلامِ فانیردیف د

کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیداد

۱

کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیدادطوفان محبت کی ہے زد میں فریاد

۲

دل محشر بے خودی ہے اللہ اللہیاد اور کسی بھول جانے والے کی یاد

۳

پابندی رسم بر طرف کیوں اے موتان کے بھی کیے ہیں تو نے قیدی آزاد

۴

اللہ یہ بجلیاں نہ کام آئیں گیآندھی ہی سے کیوں ہو آشیانہ برباد

۵

دنیا جسے کہتا ہے زمانہ فانیؔہے ایک طلسم اجتماع اضداد

۳۹ / ۹۸