کلامِ فانیردیف ٹ
آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ
۱
آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ
۲
درد دل کی انہیں خبر کیا ہوجانتا کون ہے پرائی چوٹ
۳
آئی تنہا نہ خانۂ دل میںدرد کو اپنے ساتھ لائی چوٹ
۴
تیغ تھی ہاتھ میں نہ خنجر تھااس نے کیا جانے کیا لگائی چوٹ
۵
یوں نہ قاتل کو جب یقیں آیاہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ
۶
اور کیا کرتے ہم بلا کش غمجو پڑی دل پہ وہ اٹھائی چوٹ
۷
کہیں چھپتی بھی ہے لگی دل کیلاکھ فانیؔ نے گو چھپائی چوٹ
۳۸ / ۹۸