کلامِ فانیردیف ر
جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور
۱
جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دور
۲
شاید میں در خور نگہ گرم بھی نہیںبجلی تڑپ رہی ہے مرے آشیاں سے دور
۳
آنکھیں چرا کے آپ نے افسانہ کر دیاجو حال تھا زباں سے قریب اور بیاں سے دور
۴
تا عرض شوق میں نہ رہے بندگی کی لاگاک سجدہ چاہتا ہوں ترے آستاں سے دور
۵
ہے منع راہ عشق میں دیر و حرم کا ہوشیعنی کہاں سے پاس ہے منزل کہاں سے دور
۴۰ / ۹۸