کلامِ فانیردیف گ

مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگ

۱

مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگمحرم راز ناز ہیں ہم لوگ

۲

بزم دل میں دیا نہ عیش کو بارصاحب امتیاز ہیں ہم لوگ

۳

ہم سے ملتی ہے برق طور کو دادوہ تبسم نواز ہیں ہم لوگ

۴

عقل عاجز ہے بے خبر ہے ہوشچشم بد دور راز ہیں ہم لوگ

۵

حشر امید سے مراد ہیں ہمگلہ ہائے دراز ہیں ہم لوگ

۶

تیری ناز آفرینیاں ہیں گواہکہ سراپا نیاز ہیں ہم لوگ

۷

حسن بے جلوہ کچھ سہی فانیؔجلوۂ جلوہ ساز ہیں ہم لوگ

۴۵ / ۹۸