کلامِ فانیردیف م

وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہم

۱

وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہمبے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہم

۲

ہاں ابھی بے خبر لذت آزار ہیں ہممژدہ اے مشق ستم تازہ گرفتار ہیں ہم

۳

ہو غم ہستی جاوید گوارا کیونکرجان کیا دیں کہ بہت جان سے بے زار ہیں ہم

۴

میں نے گویا صلۂ مہر و وفا بھر پایاکاش اتنا ہی وہ کہہ دیں کہ جفاکار ہیں ہم

۵

یوں تو کچھ غم سے سروکار نہ راحت کی تلاشغم کوئی دل کے عوض دے تو خریدار ہیں ہم

۶

وہ ہے مختار سزا دے کہ جزا دے فانیؔدو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہ گار ہیں ہم

۴۶ / ۹۸