کلامِ فانیردیف ک
گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تک
۱
گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تکنہ مرنے دے گی مجھے ستم گر تری تمنائے خام کب تک
۲
اجل مرا اتنا کام کر دے کہ کام میرا تمام کر دےرہے کوئی زندگی کے ہاتھوں جہاں میں رسوائے عام کب تک
۳
وہ آئے یا وعدے پر نہ آئے بلا سے قسمت جو کچھ دکھا دےمگر ہمیں دیکھنا تو یہ ہے کہ آج ہوتی ہے شام کب تک
۴
یہ بحث و تکرار چھوڑ دے آ یہ زہد کا عہد توڑ دےرہے گی اے مدعی حرمت شراب دنیا حرام کب تک
۴۴ / ۹۸