کلامِ فانیردیف و

مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ

۱

مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤبھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤ

۲

چلے بھی آؤ وہ ہے قبر فانیؔ دیکھتے جاؤتم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ

۳

ابھی کیا ہے کسی دن خوں رلا دے گی یہ خاموشیزبان حال کی جادو بیانی دیکھتے جاؤ

۴

غرور حسن کا صدقہ کوئی جاتا ہے دنیا سےکسی کی خاک میں ملتی جوانی دیکھتے جاؤ

۵

ادھر منہ پھیر کر کیا ذبح کرتے ہو ادھر دیکھومری گردن پہ خنجر کی روانی دیکھتے جاؤ

۶

بہار زندگی کا لطف دیکھا اور دیکھو گےکسی کا عیش مرگ ناگہانی دیکھتے جاؤ

۷

سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوےکفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ

۸

وہ اٹھا شور ماتم آخری دیدار میت پراب اٹھا چاہتی ہے نعش فانیؔ دیکھتے جاؤ

۵۹ / ۹۸