کلامِ فانیردیف ر
ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر
۱
ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کرجی لرز جاتا ہے ان غنچوں کو خنداں دیکھ کر
۲
آخر آخر ہوش ہی وحشت بھی تھا حیرت بھی تھادل کو عالم آفریں صحرا بداماں دیکھ کر
۳
شیوہ اپنا غم پرستی قبلہ اپنا خاک دلروح غم کو پیکر خاکی میں انساں دیکھ کر
۴
ہر تسلی سے سوا ہوتی گئی دل کی تڑپدرد کچھ سے کچھ ہوا سامان درماں دیکھ کر
۵
اس کو انعام خودی اور اس پر لطف بے خودیوہ کرم کرتے ہیں ظرف اہل عرفاں دیکھ کر
۶
معنی صورت میں ہم نے تیری صورت دیکھ لیتیری قدرت دیکھ لی انساں کو انساں دیکھ کر
۷
قبر فانیؔ پر میں وہ برچیدہ دامن اے نسیممنتشر کر خاک لیکن ان کا داماں دیکھ کر
۴۳ / ۹۸