کلامِ فانیردیف م
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
۱
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم
۲
دعا تو خیر دعا سے امید خیر بھی ہےیہ مدعا ہے تو انجام مدعا معلوم
۳
ہوا نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیےمرے نصیب میں تھی ورنہ سعیٔ نا معلوم
۴
مری وفا کے سوا غایت جفا کیوں ہوتری جفا کے سوا حاصل وفا معلوم
۵
کچھ ان کے رحم پہ تھی یوں ہی زندگی موقوفکہ ان کو راز محبت بھی ہو گیا معلوم
۶
ترے خیال کے اسرار بے خودی میں کھلےہمیں چھپا نہ سکے ورنہ دل کو کیا معلوم
۷
فریب امن میں کچھ مصلحت تو ہے ورنہسکون کشتی و توفیق ناخدا معلوم
۸
وہ التفات کہ تھا اس کی انتہا بھی ہےخدا کی مار کہ دل کو یہی نہ تھا معلوم
۹
یہ زندگی کی ہے روداد مختصر فانیؔوجود درد مسلم علاج نا معلوم
۴۷ / ۹۸