کلامِ فانیردیف م
مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزام
۱
مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزامآ نہ جائے زباں پہ تیرا نام
۲
ضبط کی کوششیں بھی جاری ہیںدرد بھی کر رہا ہے اپنا کام
۳
جو عبارت نہ ہو ترے غم سےاہل دل پر وہ زندگی ہے حرام
۴
وقفۂ موت بھی غنیمت ہےکچھ تو فی الجملہ مل گیا آرام
۵
اس نے دیکھا ہے شام کا منظرجس نے دیکھی ہے بیکسوں کی شام
۶
کس سے اب درد کی دوا چاہوںدرد اٹھتا ہے لے کے تیرا نام
۷
اب قیامت قریب ہے فانیؔفتنۂ عشق ہو چلا ہے تمام
۴۸ / ۹۸