کلامِ فانیردیف ن

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

۱

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیںہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

۲

بے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیںورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں

۳

آسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکنوہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں

۴

ہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیںکیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں

۴۹ / ۹۸