کلامِ فانیردیف ن
زباں مدعا آشنا چاہتا ہوں
زباں مدعا آشنا چاہتا ہوںدل اب زندگی سے خفا چاہتا ہوں
ادا کو ادا آشنا چاہتا ہوںتجھی پر تجھے مبتلا چاہتا ہوں
وفا چاہتے ہیں وفا چاہتا ہوںوہ کیا چاہتے ہیں میں کیا چاہتا ہوں
محبت کو رسوا کیا چاہتا ہوںنظر محرم التجا چاہتا ہوں
تعین غم عشق کا چاہتا ہوںانہیں چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں
ترے دل کو درد آشنا چاہتا ہوںبھلا چاہتا ہوں برا چاہتا ہوں
بہت تنگ ہے وہم ہستی کی دنیامیں عالم ہی اب دوسرا چاہتا ہوں
شب ہجر تیرا تصور ہی تو ہےتجھے آج تجھ سے جدا چاہتا ہوں
مری موت ماتم کا حسن طلب ہےسکوں ایک ہنگامہ زا چاہتا ہوں
خطا ڈھونڈتا ہوں عطاؤں کے قابلعطا چاہتے ہیں خطا چاہتا ہوں
پھر اس بزم کو ڈھونڈتی ہیں نگاہیںپھر اک شکوۂ برملا چاہتا ہوں
وہ فریاد کا عہد پھر یاد آیاپھر اک نالۂ نارسا چاہتا ہوں
پھر آداب فرقت ہیں ملحوظ یعنیہجوم بلا در بلا چاہتا ہوں
پھر اک سجدۂ توبہ کی آرزو ہےتجھے آپ سے پھر خفا چاہتا ہوں
پھر امیدوار کرم ہوں کہ فانیؔستم ہائے شوق آزما چاہتا ہوں
کوئی وجہ تسکیں نہیں غم نہ راحتخدا جانے فانیؔ میں کیا چاہتا ہوں
۵۰ / ۹۸