کلامِ فانیردیف ن

دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیں

۱

دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیںوہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیں

۲

درد میں لطف خلش کیف کشش پاتا ہوںکیا وہ پھر عزم تماشائے جگر رکھتے ہیں

۳

جس طرف دیکھ لیا پھونک دیا طور مجازیہ ترے دیکھنے والے وہ نظر رکھتے ہیں

۴

خود تغافل نے دیا مژدۂ بیداد مجھےاللہ اللہ مرے نالے بھی اثر رکھتے ہیں

۵

بے بسی دیکھ یہ سو بار کیا عہد کہ ابتجھ سے امید نہ رکھیں گے مگر رکھتے ہیں

۶

ہے ترے در کے سوا کوئی ٹھکانا اپناکیا کہیں تیرے اجاڑے ہوئے گھر رکھتے ہیں

۷

کوئی اس جبر تمنا کی بھی حد ہے فانیؔہم شب ہجر میں امید سحر رکھتے ہیں

۵۲ / ۹۸