کلامِ فانیردیف ن
میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں
۱
میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیںاس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیں
۲
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھکہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
۳
میری ہستی گواہ ہے کہ مجھےتو کسی وقت بھولتا ہی نہیں
۴
اب اسے ناامید کیوں کہیےدل کو توفیق مدعا ہی نہیں
۵
غم میں لذت کہاں کہ دل نہ رہاہائے وہ حسرت آشنا ہی نہیں
۶
وہی تو ہے وہی تری محفلایک فانیؔ مبتلا ہی نہیں
۵۴ / ۹۸