کلامِ فانیردیف ن

مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیں

۱

مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیںہم جان دے کے دل کو سنبھالے ہوئے تو ہیں

۲

بے زار ہو نہ جائے کہیں زندگی سے دلتاثیر سے خفا مرے نالے ہوئے تو ہیں

۳

رستے ہیں اب کے سال کہ بہتے ہیں دیکھیےپھر فصل گل میں زخم دل آلے ہوئے تو ہیں

۴

ارماں جو یوں نہیں تو نکلتے ہیں کس طرحیعنی ہمارے دل سے نکالے ہوئے تو ہیں

۵

ہاں درد عشق ان پہ کرم کی نظر رہےصبر و قرار تیرے حوالے ہوئے تو ہیں

۶

یہ صحبتیں بھی دیکھیے لاتی ہیں رنگ کیامہمان خار پاؤں کے چھالے ہوئے تو ہیں

۷

کیا جانیے کہ حشر ہو کیا صبح حشر کابیدار تیرے دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

۸

فانیؔ ترے عمل ہمہ تن جبر ہی سہیسانچے میں اختیار کے ڈھالے ہوئے تو ہیں

۵۵ / ۹۸