کلامِ فانیردیف ن

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں

۱

لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیںدل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیں

۲

جتنے منہ ہیں اتنی باتیں دل کا پتہ کیا خاک چلےجس نے دل کی چوری کی ہے ایک اسی کا نام نہیں

۳

جلوہ و دل میں فرق نہیں جلوے کو ہی اب دل کہتے ہیںیعنی عشق کی ہستی کا آغاز تو ہے انجام نہیں

۴

رک کے جو سانسیں آئیں گئیں مانا کہ وہ آہیں تھیں لیکنآپ نے تیور کیوں بدلے آہوں میں کسی کا نام نہیں

۵

عشق کے آزاری بھی کہیں مر جانے سے جی جاتے ہیںلے یہ تسلی رہنے دے اے موت یہ تیرا کام نہیں

۶

کب سے پڑی ہیں دل میں تیرے ذکر کی ساری راہیں بندبرسوں گزرے اس بستی میں رسم سلام و پیام نہیں

۷

حد تھی یہ بیتابی دل کی جانیے اب کیا ہونا ہےصبر کی حد بھی ہونے آئی صبح نہیں یا شام نہیں

۸

دل پہ اپنا بس نہیں چلتا ان کی شکایت کیا کیجےآپ ہم اپنے دشمن ٹھہرے دوست پہ کچھ الزام نہیں

۹

دل سے کسی کی آنکھوں تک کچھ راز کی باتیں پہنچی ہیںآنکھ سے دل تک آیا ہو ایسا تو کوئی پیغام نہیں

۱۰

نزع میں فانیؔ تو نے یہ کس کا چپکے چپکے نام لیاکیوں او کافر تیری زباں پر اب بھی خدا کا نام نہیں

۵۶ / ۹۸