لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں

رک کے جو سانسیں آئیں گئیں مانا کہ وہ آہیں تھیں لیکنآپ نے تیور کیوں بدلے آہوں میں کسی کا نام نہیں

About this couplet

This is couplet 4 of 10 in “⁨لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Shaukat Ali Khan Fani Badayuni's Urdu book Kalam-e-Fani (⁨کلامِ فانی⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۰