کلامِ فانیردیف ر
کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کر
۱
کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کریاد ہو اس کو نہ پھر گلزار رضواں بھول کر
۲
سنگ دل بے مہر بے دیں بے وفا سمجھے نہ ہمکر دئیے صدقے حسینوں پر دل و جاں بھول کر
۳
بوسۂ ابرو کو لے کر منہ پہ کھائی ہم نے تیغکچھ کیا تم نے نہ پاس تیغ عریاں بھول کر
۴
کر کے توبہ قول ہے اب حضرت دل کا یہیاب کبھی لیں گے نہ نام عشق خوباں بھول کر
۵
خوں رلایا عمر بھر شوکتؔ فراق یار نےمرتے مرتے بھی نہ نکلا کوئی ارماں بھول کر
۴۱ / ۹۸