کلامِ فانیردیف ر

عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کر

۱

عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کرانتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کر

۲

دل ہمیں ہوا حاصل درد میں فنا ہو کرعشق کا ہوا آغاز غم کی انتہا ہو کر

۳

نامراد رہنے تک نامراد جیتے ہیںسانس بن گیا اک ایک نالہ نارسا ہو کر

۴

اب ہوئی زمانہ میں شیوۂ وفا کی قدرعالم آشنا ہے وہ دشمن وفا ہو کر

۵

اور بندے ہیں جن کو دعوی خدائی ہےتھی ہماری قسمت میں بندگی خدا ہو کر

۶

عمر خضر کے انداز ہر نفس میں پاتا ہوںزندگی نئی پائی آپ سے جدا ہو کر

۷

بڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے مرتے ہیں نہ جیتے ہیںدرد پر خدا کی مار دل میں رہ گیا ہو کر

۸

کارگاہ حسرت کا حشر کیا ہوا یا ربداغ دل پہ کیا گزری نقش مدعا ہو کر

۹

عشق سے ہوئے آگاہ صبر کی بھی حد دیکھیخاک میں ملا دوگے دیر آشنا ہو کر

۱۰

کی قضائے مبرم نے زندگی کی غم خواریدرد کی دوا پہنچی درد بے دوا ہو کر

۱۱

زندگی سے ہو بے زار فانیؔ اس سے کیا حاصلموت کو منا لوگے جان سے خفا ہو کر

۴۲ / ۹۸