کلامِ فانیردیف و

خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو

۱

خدا اثر سے بچائے اس آستانے کودعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کو

۲

نہ پوچھئے کہ محبت میں مجھ پہ کیا گزرینہ چھیڑئیے مرے بھولے ہوئے فسانے کو

۳

یہ شعبدے یہ کرشمے کسے میسر تھےتری نگاہ نے سکھلا دیئے زمانے کو

۴

چمن میں برق نے جھانکا کہ ہم لرز اٹھےاب اس سے آگ ہی لگ جائے آشیانے کو

۵

خیال یار بھی کھویا ہوا سا رہتا ہےاب ان کی یاد بھی آتی ہے بھول جانے کو

۶

نگاہ لطف نہ فرما نگاہ ناز کے بعدجگر میں آگ لگا کر نہ آ بجھانے کو

۷

زمانہ بر سر آزار تھا مگر فانیؔتڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو

۵۸ / ۹۸