دیوانِ غالب کاملردیف الف

خود آرا وحشتِ چشمِ پری سے شب وہ بد خو تھا

۱

خود آرا وحشتِ چشمِ پری سے شب وہ بد خو تھاکہ موم، آئینۂ تمثال کو تعویذ بازو تھا

۲

بہ شیرینیٔ خواب آلودہ مژگاں، نشترِ زنبورخود آرائی سے، آئینہ، طلسمِ مومِ جادو تھا

۳

نہیں ہے باز گشتِ سیل غیر از جانبِ دریاہمیشہ دیدۂ گریاں کو، آبِ رفتہ در جو تھا

۴

رہا نظارہ وقتِ بے نقابی، آپ پر لرزاںسرشک آگیں مژہ سے، دست از جاں شستہ برو تھا

۵

غمِ مجنوں، عزادارانِ لیلیٰ کا پرستش گرخمِ رنگِ سیاہ، پیمانہ ہر چشمِ آہو تھا

۶

رکھا غفلت نے دور افتادہ، ذوقِ فنا ورنہاشارت فہم کو، ہر ناخنِ بریدہ، ابرو تھا

۷

اسدؔ خاکِ درِ مے خانہ اب سر پر اڑاتا ہوںگئے وہ دن کہ پانی، جامِ مے سے زانو زانو تھا

۳ / ۱۹۳