دیوانِ غالب کاملردیف الف

جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا

۱

جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدادہانِ زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا

۲

بسانِ سبزہ رگِ خواب ہے زباں ایجادکرے ہے خامشی احوالِ بے خوداں پیدا

۳

صفا و شوخی و اندازِ حسن پا بہ رکابخط سیاہ سے ہے، گردِ کارواں پیدا

۴

نہیں ہے آہ کو ایمائے تیرہ بالیدنوگرنہ ہے خمِ تسلیم سے کماں پیدا

۵

نصیبِ تیرہ، بلا گردش آفریں ہے، اسدؔزمیں سے ہوتے ہیں، صد دامن آسماں پیدا

۱۶ / ۱۹۳