دیوانِ غالب کاملردیف الف
گرفتاری میں فرمانِ خطِ تقدیر ہے پیدا
۱
گرفتاری میں فرمانِ خطِ تقدیر ہے پیداکہ طوقِ قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
۲
زمیں کو صفحۂ گلشن بنایا خون چکانی نےچمن بالیدنی ہا، از رمِ نخچیر ہے پیدا
۳
مگر وہ شوخ ہے طوفاں طرازِ شوقِ خون ریزیکہ در بحرِ کہاں بالیدہ موجِ تیر ہے پیدا
۴
نہیں ہے کف لبِ نازک پہ فرطِ نشۂ مے سےلطافت ہائے جوشِ حسن کا سر شیر ہے پیدا
۵
عروجِ اُمیدی چشم زخمِ چرخ کیا جانے؟بہارِ بے خزاں از آہِ بے تاثیر ہے پیدا
۶
اسد جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میںجراحت ہائے دل سے جوہرِ شمشیر ہے پیدا
۱۷ / ۱۹۳