دیوانِ غالب کاملردیف الف

سحر گہ باغ میں وہ حیرتِ گل زار ہو پیدا

۱

سحر گہ باغ میں وہ حیرتِ گل زار ہو پیدااُڑے رنگِ گل اور آئینۂ دیوار ہو پیدا

۲

بتاں! زہر آب اس شدت سے دو پیکانِ ناوک کوکہ خطِ سبز تا پشتِ لبِ سوفار ہو پیدا

۳

لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سےبجائے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا

۴

کروں گر عرض سنگینیٔ کہسار اپنی بے تابیرگِ ہر سنگ سے نبضِ دلِ بیمار ہو پیدا

۵

بہ سنگِ شیشہ توڑوں، ساقیا! پیمانۂ پیماںاگر ابرِ سیہ مست از سوئے کہسار ہو پیدا

۶

اسدؔ مایوس مت ہو، گرچہ رونے میں اثر کم ہےکہ غالبؔ ہے کہ بعد از زاریٔ بسیار ہو پیدا

۱۸ / ۱۹۳