دیوانِ غالب کاملردیف الف
خط جو رخ پر، جانشینِ ہالۂ مہ ہو گیا
۱
خط جو رخ پر، جانشینِ ہالۂ مہ ہو گیاہالہ دودِ شعلہ جوالۂ مہ ہو گیا
۲
حلقۂ گیسو کھلا دورِ خطِ رخسار پرہالۂ دیگر بہ گردِ ہالۂ مہ ہو گیا
۳
شب کہ مستِ دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیبپارہ چاکِ کتاں، پرکالۂ مہ ہو گیا
۴
شب کہ وہ باغ میں تھا جلوہ فرما، اے اسدؔ!داغِ مہ جوشِ چمن سے، لالۂ مہ ہو گیا
۲۳ / ۱۹۳