دیوانِ غالب کاملردیف الف

بس کہ عاجز نا رسائی سے کبوتر ہو گیا

۱

بس کہ عاجز نا رسائی سے کبوتر ہو گیاصفحۂ نامہ، غلافِ بالشِ پر ہو گیا

۲

صورتِ دیبا تپش سے میری، غرقِ خوں ہے آجخارِ پیراہن رگِ بستر کو نشتر ہو گیا

۳

بس کہ آئینے نے پایا گرمیٔ رخ سے گدازدامنِ تمثال، مثلِ برگِ گل، تر ہو گیا

۴

شعلہ رخسارا! تحیر سے تیری رفتار کےخارِ شمعِ آئینہ، آتش میں جوہر ہو گیا

۵

بس کہ وقتِ گریہ نکلا تیرہ کاری کا غباردامنِ آلودۂ عصیاں، گراں تر ہو گیا

۶

حیرتِ اندازِ رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔنقشِ پائے خضر یاں، سدِّ سکندر ہو گیا

۲۴ / ۱۹۳