اک گرم آہ کی، تو ہزاروں کے گھر جلے

پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے

Editors' notes

مصرع: نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ پروانہ خانہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 2 of 2 in “⁨اک گرم آہ کی، تو ہزاروں کے گھر جلے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (⁨دیوانِ غالب کامل⁩).

Read it in the poem

۲ / ۲